ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی،پاکستانی سپریم کورٹ کا سوال

دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی،پاکستانی سپریم کورٹ کا سوال

Wed, 26 Jul 2017 15:20:28    S.O. News Service

کراچی25جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے لندن میں فلیٹ کی فروخت اور بنی گالہ میں خریدی گئی اراضی سے متعلق جمع کروائی گئی منی ٹریل پر سوال اُٹھایا ہے کہ اس میں جمع کرائی گئی دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی کیونکہ بہت سے بینک اب بندہوچکے ہیں۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ عدالت میں ایسی کوئی بات نہیں کریں گے جس کی وجہ سے اُنھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر ان دستاویزات کی تصدیق کے لیے اُنھیں بیرون ملک بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو ہونے والی سماعت میں درخواست گزار حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ جب تک ان دستاویزات کی تصدیق نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس منی ٹریل کو مستند قرار نہیں دیا جاسکتا۔عمران خان کی طرف سے اثاثے چھپانے اور پاکستان تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ یہ دستاویز اسی اکاؤنٹینٹ سے لی گئی ہوں گی جنہوں نے دوسری دستاویز دی تھیں۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے لندن فلیٹ کی خریداری کے بارے میں تفصیلات جمع کرواتے ہوئے کہا کہ لندن فلیٹ کے لیے ڈاؤن پیمنٹ(ابتدائی ادائیگی)سنہ 1983میں کی گئی تھی جب 16دسمبر 1983کو 11ہزار، 750پاونڈجمع کرائے گئے تھے۔نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان 1971 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم میں شامل ہوئے تھے اور اس کے علاوہ وہ 1971 سے 1976 تک کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلتے رہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان 1977 سے 1979 تک کیری پیکر سیریز کھیلے اور اس سیریز میں آصف اقبال اور ظہیر عباس سمیت دیگر کھلاڑی بھی کھیلتے تھے۔ نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان کو آسٹریلیا میں بھی کرکٹ کھیلنے سے 75 ہزار ڈالر ملے تھے۔بینچ کے سربراہ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ کا معاملہ دوسرے فریق نے نہیں اٹھایا تھا بلکہ عدالت نے دستاویزات اپنے اطمینان کے لیے مانگی تھیں۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کو 1988 میں 1 لاکھ، 90 ہزار پاؤنڈ ملے اور یہ رقم عمران خان کومختلف مراحل میں منتقل کی گئی تھی۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بینیفِٹ ایئر (امدادی سال) کی رقم 1988میں لندن کی فلیٹ کی خریداری کے بعد ملی تھی جبکہ فلیٹ سنہ 1983 میں خریدا گیا تھا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ رائل ٹرسٹ بینک سے 13.75 فیصد پر قرض لیا گیا تھا اور اس طرح سود کی رقم شامل کر کے فلیٹ کی رقم 1 لاکھ، 61 ہزار پاونڈ ہوگئی۔جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا عمران خان کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم تھی؟ دلچسپی یہ ہے کہ کتنی رقم آئی اور خریداری کے لیے ادا کیسے ہوئی۔اس پر نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے یہ مقدمہ نہیں ہے کہ ان کے مؤکل کے پاس لندن کے فلیٹ کے لیے رقم تھی یا نہیں، بلکہ عدالت کے سامنے مقدمہ نیازی سروسز چھپانے کا ہے۔اُنھوں نے کہاکہ سنہ 2002میں ہونے والے انتخابات میں لندن فلیٹ کا ذکر کیا گیا تھا کیونکہ ایسا کرنا ضروری تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ فلیٹ سنہ 2003میں چھ لاکھ 90ہزار پاؤنڈ میں فروخت کر دیا گیا تھا۔


Share: